الْحُمَيْدِيُّ ، سُفْيَانُ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ ، أَبِيهِ ، أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ , قَالَتْ:" قَدِمْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَأَنَا جُوَيْرِيَةٌ فَكَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً لَهَا أَعْلَامٌ , فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْأَعْلَامَ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ:" سَنَاهْ سَنَاهْ"، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: يَعْنِي حَسَنٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسحاق بن سعید سعیدی نے بیان کیا۔ ان سے ان کے والد سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے، ان سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں جب حبشہ سے آئی تو بہت کم عمر تھی۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر عنایت فرمائی اور پھر آپ نے اس کی دھاریوں پر اپنا ہاتھ پھیر کر فرمایا «سناه، سناه".» ۔ حمیدی نے بیان کیا کہ «سناه، سناه".» حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی اچھا اچھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3874]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة