آدَمُ ، شُعْبَةُ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، أَبَا حَمْزَةَ ، لِابْنِ أَبِي لَيْلَى ، زَيْدٌ
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَتْ الْأَنْصَارُ: إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ أَتْبَاعًا وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَتْبَاعَهُمْ مِنْهُمْ"، قَالَ عَمْرٌو: فَذَكَرْتُهُ لِابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قَدْ زَعَمَ ذَاكَ زَيْدٌ، قَالَ: شُعْبَةُ أَظُنُّهُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے عمرو بن مرہ نے کہ میں نے انصار کے ایک آدمی ابوحمزہ سے سنا کہ انصار نے عرض کیا ہر قوم کے تابعدار (ہالی موالی) ہوتے ہیں، ہم تو آپ کے تابعدار بنے۔ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تابعداروں کو بھی ہم میں شریک کر دے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی ”اے اللہ! ان کے تابعداروں کو بھی انہیں میں سے کر دے۔“ عمرو نے بیان کیا کہ پھر میں نے اس حدیث کا تذکرہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے کیا تو انہوں نے (تعجب کے طور پر) کہا زید نے ایسا کہا؟ شعبہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ زید، زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہیں (نہ اور کوئی زید جیسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ وغیرہ جیسے ابن ابی لیلیٰ نے گمان کیا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3788]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة