يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ ، بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، شُعْبَةُ ، هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فَكَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ أَحَبُّ النَّاسِ" , إِلَيَّ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے بہز بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ہشام بن زید نے خبر دی، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا کہ انصار کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ ان کے ساتھ ایک ان کا بچہ بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کلام کیا پھر فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تم لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3786]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة