بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 3650 — باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں کی فضیلت کا بیان۔
کتب صحیح بخاری کتاب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں کی فضیلت کا بیان۔ حدیث 3650

Q3649 حوالہ جات (References)

وَمَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ رَآهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَهْوَ مِنْ أَصْحَابِهِ.
‏‏‏‏ (امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) جس مسلمان نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت اٹھائی یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دیدار اسے نصیب ہوا ہو وہ آپ کا صحابی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: Q3649]
حدیث نمبر: 3650 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاقُ ، النَّضْرُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي جَمْرَةَ ، زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ، سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ"، قَالَ عِمْرَانُ: فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ بَعْدَ قَرْنِهِ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْمًا يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَنْذُرُونَ وَلَا يَفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے اسحٰق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوجمرہ نے، کہا میں نے زہدم بن مضرب سے سنا، کہا کہ میں نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔ پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو بغیر کہے گواہی دینے کے لیے تیار ہو جایا کرے گی اور ان میں خیانت اور چوری اتنی عام ہو جائے گی کہ ان پر کسی قسم کا بھروسہ باقی نہیں رہے گا۔ اور نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے (حرام مال کھا کھا کر) ان پر مٹاپا عام ہو جائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3650]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (3649) باب پر واپس اگلی حدیث (3651) →