أَبُو عَاصِمٍ ، عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبُو بَكْرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: صَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَصْرَ، ثُمَّ خَرَجَ يَمْشِي فَرَأَى الْحَسَنَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ، وَقَالَ: بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ لَا شَبِيهٌ بِعَلِيٍّ وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید بن ابی حسین نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے باہر نکلے تو دیکھا کہ حسن رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ آپ نے ان کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور فرمایا: میرے باپ تم پر قربان ہوں تم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شباہت ہے۔ علی کی نہیں۔ یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ ہنس رہے تھے (خوش ہو رہے تھے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3542]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة