بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 3492 — باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الحجرات میں) ارشاد ”اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد آدم اور ایک ہی عورت حواء سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنا دیا ہے تاکہ تم بطور رشتہ داری ایک دوسرے کو پہچان سکو، بیشک تم سب میں سے اللہ کے نزدیک معزز تر وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو“۔
کتب صحیح بخاری کتاب: فضیلتوں کے بیان میں باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الحجرات میں) ارشاد ”اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد آدم اور ایک ہی عورت حواء سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنا دیا ہے تاکہ تم بطور رشتہ داری ایک دوسرے کو پہچان سکو، بیشک تم سب میں سے اللہ کے نزدیک معزز تر وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو“۔ حدیث 3492

Q3489 حوالہ جات (References)

وَقَوْلُهُ: {وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا}. وَمَا يُنْهَى عَنْ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ الشُّعُوبُ النَّسَبُ الْبَعِيدُ وَالْقَبَائِلُ دُونَ ذَلِكَ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا سورۃ نساء میں ارشاد «واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا‏» اور اللہ سے ڈرو جس کا نام لے کر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور ناتا توڑنے سے ڈرو۔ بیشک اللہ تمہارے اوپر نگران ہے، اور جاہلیت کی طرح باپ دادوں پر فخر کرنا منع ہے، اس کا بیان «شعوب»، «شعب» کی جمع ہے جس سے اوپر کا خاندان مراد ہے اور «قبائل» اس سے اتر کر نیچے کا یعنی اس کی شاخ مراد ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: Q3489]
حدیث نمبر: 3492 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُوسَى ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، كُلَيْبٌ ، زَيْنَبَ
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا كُلَيْبٌ، حَدَّثَتْنِي رَبِيبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَظُنُّهَا زَيْنَبَ، قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالمُقيَّرِ وَالْمُزَفَّتِ، وَقُلْتُ لَهَا: أَخْبِرِينِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ كَانَ مِنْ مُضَرَ كَانَ، قَالَتْ: فَمِمَّنْ كَانَ إِلَّا مِنْ مُضَرَ كَانَ مِنْ وَلَدِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے، کہا ہم سے کلیب نے بیان کیا، اور ان سے ربیبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے، میرا خیال ہے کہ ان سے مراد زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء، حنتم، نقیر اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا تھا اور میں نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ مجھے بتائیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تعلق کس قبیلہ سے تھا؟ کیا واقعی آپ کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا؟ انہوں نے کہا پھر اور کس سے ہو سکتا ہے یقیناً آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تعلق اسی قبیلہ سے تھا۔ آپ نضر بنی بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3492]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (3491) باب پر واپس اگلی حدیث (3493) →