بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 345 — باب: جب جنبی کو (غسل کی وجہ سے) مرض بڑھ جانے کا یا موت ہونے کا یا (پانی کے کم ہونے کی وجہ سے) پیاس کا ڈر ہو تو تیمم کر لے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: تیمم کے احکام و مسائل باب: جب جنبی کو (غسل کی وجہ سے) مرض بڑھ جانے کا یا موت ہونے کا یا (پانی کے کم ہونے کی وجہ سے) پیاس کا ڈر ہو تو تیمم کر لے۔ حدیث 345

Q345 حوالہ جات (References)

وَيُذْكَرُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَجْنَبَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فَتَيَمَّمَ وَتَلَا: وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29 فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُعَنِّفْ.
‏‏‏‏ کہا جاتا ہے کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ایک جاڑے کی رات میں غسل کی حاجت ہوئی۔ تو آپ نے تیمم کر لیا اور یہ آیت تلاوت کی «ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيما» اپنی جانوں کو ہلاک نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر بڑا مہربان ہے۔ پھر اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی کوئی ملامت نہیں فرمائی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّيَمُّمِ/حدیث: Q345]
بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدٌ هُوَ غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ غُنْدَرٌ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُود" إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ لَا يُصَلِّي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ رَخَّصْتُ لَهُمْ فِي هَذَا كَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُهُمُ الْبَرْدَ، قَالَ: هَكَذَا يَعْنِي تَيَمَّمَ وَصَلَّى"، قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَرَ؟ قَالَ: إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنِعَ بِقَوْلِ عَمَّارٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا مجھ کو محمد نے خبر دی جو غندر کے نام سے مشہور ہیں، شعبہ کے واسطہ سے، وہ سلیمان سے نقل کرتے ہیں اور وہ ابووائل سے کہ ابوموسیٰ نے عبداللہ بن مسعود سے کہا کہ اگر (غسل کی حاجت ہو اور) پانی نہ ملے تو کیا نماز نہ پڑھی جائے۔ عبداللہ نے فرمایا، ہاں! اگر مجھے ایک مہینہ تک بھی پانی نہ ملے تو میں نماز نہ پڑھوں گا۔ اگر اس میں لوگوں کو اجازت دے دی جائے تو سردی معلوم کر کے بھی لوگ تیمم سے نماز پڑھ لیں گے۔ ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے عمار رضی اللہ عنہ کے قول کا کیا جواب ہو گا۔ بولے کہ مجھے تو نہیں معلوم ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ عمار رضی اللہ عنہ کی بات سے مطمئن ہو گئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّيَمُّمِ/حدیث: 345]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (344) باب پر واپس اگلی حدیث (346) →