بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 3427 — باب: اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور ہم نے داؤد کو سلیمان (بیٹا) عطا فرمایا، وہ بہت اچھا بندہ تھا، بیشک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا“۔
کتب صحیح بخاری کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں باب: اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور ہم نے داؤد کو سلیمان (بیٹا) عطا فرمایا، وہ بہت اچھا بندہ تھا، بیشک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا“۔ حدیث 3427

Q3423 حوالہ جات (References)

الرَّاجِعُ الْمُنِيبُ، وَقَوْلُهُ: {هَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي} وَقَوْلُهُ: {وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ}، {وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ} أَذَبْنَا لَهُ عَيْنَ الْحَدِيدِ {وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ} إِلَى قَوْلِهِ: {مِنْ مَحَارِيبَ}. قَالَ مُجَاهِدٌ: بُنْيَانٌ مَا دُونَ الْقُصُورِ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ سورة سبأ آية 13 كَالْحِيَاضِ لِلْإِبِلِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَالْجَوْبَةِ مِنَ الْأَرْضِ وَقُدُورٍ رَاسِيَاتٍ اعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْرًا وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ سورة سبأ آية 13 فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلا دَابَّةُ الأَرْضِ سورة سبأ آية 14الْأَرَضَةُ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ سورة سبأ آية 14 عَصَاهُ فَلَمَّا خَرَّ سورة سبأ آية 14 إِلَى قَوْلِهِ فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ سورة سبأ آية 14 حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي سورة ص آية 32 فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالأَعْنَاقِ سورة ص آية 33 يَمْسَحُ أَعْرَافَ الْخَيْلِ وَعَرَاقِيبَهَا الْأَصْفَادُ الْوَثَاقُ، قَالَ مُجَاهِدٌ الصَّافِنَاتُ سورة ص آية 31صَفَنَ الْفَرَسُ رَفَعَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ حَتَّى تَكُونَ عَلَى طَرَفِ الْحَافِرِ الْجِيَادُ سورة ص آية 31 السِّرَاعُ جَسَدًا سورة ص آية 34 شَيْطَانًا رُخَاءً سورة ص آية 36طَيِّبَةً حَيْثُ أَصَابَ سورة ص آية 36 حَيْثُ شَاءَ فَامْنُنْ سورة ص آية 39 أَعْطِ بِغَيْرِ حِسَابٍ سورة ص آية 39 بِغَيْرِ حَرَجٍ.
‏‏‏‏ بہت ہی رجوع ہونے والا اور توجہ کرنے والا۔ سلیمان کا یہ کہنا کہ مالک مجھ کو ایسی بادشاہت دے کہ میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو۔ اور سورۃ التوبہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان اور یہ لوگ پیچھے لگ گئے اس علم کے جو سلیمان کی بادشاہت میں شیطان پڑھا کرتے تھے۔ اور سورۃ سبا میں فرمایا (ہم نے) سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو (تابع) کر دیا کہ اس کی صبح کی منزل مہینہ بھر کی ہوتی اور اس کی شام کی منزل مہینہ بھر کی ہوتی اور «قطر‏» یعنی ہم نے ان کے لیے لوہے کا چشمہ بہا دیا ( «وأسلنا له عين القطر‏» بمعنی) «وأذبنا له عين الحديد» ہے اور جنات میں کچھ وہ تھے جو ان کے آگے ان کے پروردگار کے حکم سے خوب کام کرتے تھے۔ آخر آیت «من محاريب‏» تک۔ مجاہد نے کہا کہ «محاريب‏» وہ عمارتیں جو محلوں سے کم ہوں۔ «تماثيل» تصویریں اور لگن اور «جواب‏» یعنی حوض جیسے اونٹوں کے لیے حوض ہوا کرتے ہیں۔ اور (بڑی بڑی) جمی ہوئی دیگیں۔ آیت «الشكور‏» تک۔ پھر جب ہم نے ان پر موت کا حکم جاری کر دیا تو کسی چیز نے ان کی موت کا پتہ نہ دیا بجز ایک زمین کے کیڑے (دیمک) کے کہ وہ ان کے عصا کو کھاتا رہا، سو جب وہ گر پڑے تب جنات نے جانا کہ وہ مر گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان «المهين‏» تک۔ سلیمان علیہ السلام کہنے لگے کہ میں اس مال کی محبت میں پروردگار کی یاد سے غافل ہو گیا «فطفق مسحا‏»، الخ یعنی اس نے گھوڑوں کی ایال اور اگاڑی پچھاڑی کی رسیوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ «الأصفاد» بمعنی «الوثاق‏» بیڑیاں زنجیریں۔ مجاہد نے کہا کہ «الصافنات‏»، «صفن الفرس» سے مشتق ہے، اس وقت بولتے ہیں جب گھوڑا ایک پاؤں اٹھا کر کھر کی نوک پر کھڑا ہو جائے، «الجياد‏» یعنی دوڑنے میں تیز۔ «جسدا‏» بمعنی شیطان، (جو سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی پہن کر ان کی کرسی پر بیٹھ گیا تھا) «رخاء‏» نرمی سے، خوشی سے۔ «حيث أصاب‏» یعنی جہاں وہ جانا چاہتے۔ «فامنن‏ أعط‏.‏‏» کے معنی میں ہے، جس کو چاہے دے بغیر حساب بغیر کسی تکلیف کے، بے حرج۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: Q3423]
حدیث نمبر: 3427 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ: كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ: صَاحِبَتُهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، وَقَالَتْ: الْأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتْ: الصُّغْرَى لَا تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ إِلَّا يَوْمَئِذٍ وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةُ.
ترجمہ: مولانا داود راز
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ دو عورتیں تھیں اور دونوں کے ساتھ دونوں کے بچے تھے۔ اتنے میں ایک بھیڑیا آیا اور ایک عورت کے بچے کو اٹھا لے گیا۔ ان دونوں میں سے ایک عورت نے کہا بھیڑیا تمہارے بیٹے کو لے گیا ہے اور دوسری نے کہا کہ تمہارے بیٹے کو لے گیا ہے۔ دونوں داؤد علیہ السلام کے یہاں اپنا مقدمہ لے گئیں۔ آپ نے بڑی عورت کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ اس کے بعد وہ دونوں سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے یہاں آئیں اور انہیں اس جھگڑے کی خبر دی۔ انہوں نے فرمایا کہ اچھا چھری لاؤ۔ اس بچے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کے درمیان بانٹ دوں۔ چھوٹی عورت نے یہ سن کر کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے ایسا نہ کیجئے، میں نے مان لیا کہ اسی بڑی کا لڑکا ہے۔ اس پر سلیمان علیہ السلام نے اس چھوٹی کے حق میں فیصلہ کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے «سكين» کا لفظ اسی دن سنا، ورنہ ہم ہمیشہ (چھری کے لیے) «مدية‏.» کا لفظ بولا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3427]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (3426) باب پر واپس اگلی حدیث (3428) →