بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 3422 — باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ ص میں) فرمان ”ہمارے زوردار بندے داؤد کا ذکر کر، وہ اللہ کی طرف رجوع ہونے والا تھا“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وفصل الخطاب‏» تک (یعنی فیصلہ کرنے والی تقریر ہم نے انہیں عطا کی تھی)۔
کتب صحیح بخاری کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ ص میں) فرمان ”ہمارے زوردار بندے داؤد کا ذکر کر، وہ اللہ کی طرف رجوع ہونے والا تھا“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وفصل الخطاب‏» تک (یعنی فیصلہ کرنے والی تقریر ہم نے انہیں عطا کی تھی)۔ حدیث 3422

Q3421 حوالہ جات (References)

قَالَ مُجَاهِدٌ: الْفَهْمُ فِي الْقَضَاءِ وَلا تُشْطِطْ سورة ص آية 22 لَا تُسْرِفْ وَاهْدِنَا إِلَى سَوَاءِ الصِّرَاطِ سورة ص آية 22 إِنَّ هَذَا أَخِي لَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً سورة ص آية 23 يُقَالُ لِلْمَرْأَةِ نَعْجَةٌ وَيُقَالُ لَهَا أَيْضًا شَاةٌ وَلِيَ نَعْجَةٌ وَاحِدَةٌ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا سورة ص آية 23 مِثْلُ وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا سورة آل عمران آية 37ضَمَّهَا وَعَزَّنِي سورة ص آية 23 غَلَبَنِي صَارَ أَعَزَّ مِنِّي أَعْزَزْتُهُ جَعَلْتُهُ عَزِيزًا فِي الْخِطَابِ سورة ص آية 23 يُقَالُ الْمُحَاوَرَةُ قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَى نِعَاجِهِ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْخُلَطَاءِ سورة ص آية 24 الشُّرَكَاءِ لَيَبْغِي إِلَى قَوْلِهِ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ سورة ص آية 24 قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اخْتَبَرْنَاهُ وَقَرَأَ عُمَرُ فَتَّنَّاهُ بِتَشْدِيدِ التَّاءِ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ سورة ص آية 24.
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا کہ «فصل الخطاب‏» سے مراد فیصلے کی سوجھ بوجھ ہے۔ «ولا تشطط‏» یعنی بے انصافی نہ کر اور ہمیں سیدھی راہ بتا۔ یہ شخص میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے «نعجة‏» (دنبیاں) ہیں۔ عورت کے لیے بھی «نعجة‏» کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور «نعجة‏» بکری کو بھی کہتے ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے ‘ سو یہ کہتا ہے وہ بھی مجھ کو دے ڈال۔ یہ «كفلها زكرياء‏» کی طرح ہے بمعنی «ضمها» اور گفتگو میں مجھے دباتا ہے۔ داود علیہ السلام نے کہا اس نے تیری دنبی اور اپنی دنبیوں میں ملانے کی درخواست کر کے واقعی تجھ پر ظلم کیا اور اکثر ساجھی یوں ہی ایک دوسرے کے اوپر ظلم کیا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «أنما فتناه‏» تک۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( «فتناه‏» کے معنی ہیں) ہم نے ان کا امتحان کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ اس کی قرآت تاء کی تشدید کے ساتھ «فتناه‏» کیا کرتے تھے۔ سو انہوں نے اپنے پروردگار کے سامنے توبہ کی اور وہ جھک پڑے اور رجوع ہوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: Q3421]
حدیث نمبر: 3422 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَيْسَ ص مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سورۃ ص کا سجدہ ضروری نہیں، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس سورۃ میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3422]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (3421) باب پر واپس اگلی حدیث (3423) →