بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 3413 — باب: (یونس علیہ السلام کا بیان) سورۃ الصافات میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور بلاشبہ یونس یقیناً رسولوں میں سے تھا“ اس قول تک ”تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ دیا“۔
کتب صحیح بخاری کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں باب: (یونس علیہ السلام کا بیان) سورۃ الصافات میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور بلاشبہ یونس یقیناً رسولوں میں سے تھا“ اس قول تک ”تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ دیا“۔ حدیث 3413

Q3412 حوالہ جات (References)

قَالَ مُجَاهِدٌ مُذْنِبٌ الْمَشْحُونُ الْمُوقَرُ فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنْ [ ص: 1254 ] الْمُسَبِّحِينَ الْآيَةَ فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ بِوَجْهِ الْأَرْضِ وَهُوَ سَقِيمٌ وَأَنْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ يَقْطِينٍ مِنْ غَيْرِ ذَاتِ أَصْلٍ الدُّبَّاءِ وَنَحْوِهِ وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ كَظِيمٌ وَهُوَ مَغْمُومٌ.
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا: «مليم» گنہگار۔ «المشحون» بوجھل بھری ہوئی۔ «فلولا أنه كان من المسبحين» آخر تک۔ «فنبذناه بالعراء» کا معنی روئے زمین۔ «يقطين» وہ درخت جو اپنی جڑ پر کھڑا نہیں رہتا جیسے کدو وغیرہ۔ «وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون فآمنوا فمتعناهم إلى حين» ۔ (سورۃ ن میں فرمایا) «مكظوم» جو «كظيم» کے معنی میں ہے یعنی مغموم رنجیدہ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: Q3412]
حدیث نمبر: 3413 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے ‘ ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ مجھے یونس بن متی سے بہتر قرار دے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے والد کی طرف منسوب کر کے ان کا نام لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3413]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (3412) باب پر واپس اگلی حدیث (3414) →