بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَهَا مُرِي أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَتْ: إِنَّهُ رَجُلٌ أَسِيفٌ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ رَقَّ فَعَادَ فَعَادَتْ، قَالَ: شُعْبَةُ، فَقَالَ: فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (مرض الموت میں) ان سے فرمایا ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ وہ بہت نرم دل ہیں ‘ آپ کی جگہ جب کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہو جائے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دوبارہ یہی حکم دیا۔ لیکن انہوں نے بھی دوبارہ یہی عذر بیان کیا ‘ شعبہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ تم تو یوسف علیہ السلام کی ساتھ والیاں ہو۔ (ظاہر میں کچھ باطن میں کچھ) ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو نماز پڑھائیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3384]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة