الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا، قَالَتْ:" بَيْنَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعَةٌ فِي خَمِيصَةٍ، إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي، قَالَ: أَنُفِسْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے یحییٰ بن کثیر کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوسلمہ سے کہ زینب بنت ام سلمہ نے ان سے بیان کیا اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھی، اتنے میں مجھے حیض آ گیا۔ اس لیے میں آہستہ سے باہر نکل آئی اور اپنے حیض کے کپڑے پہن لیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں نفاس آ گیا ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں۔ پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلا لیا، اور میں چادر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ لیٹ گئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 298]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة