بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2917 — باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لڑائی میں زرہ پہننا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: جہاد کا بیان باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لڑائی میں زرہ پہننا۔ حدیث 2917

Q2915 حوالہ جات (References)

وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا خَالِدٌ فَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خالد بن ولید نے تو اپنی زرہیں اللہ کے راستے میں وقف کر رکھی ہیں (پھر اس سے زکاۃ کا مانگنا بیجا ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: Q2915]
حدیث نمبر: 2917 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وُهَيْبٌ ، ابْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدِ اضْطَرَّتْ أَيْدِيَهُمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَكُلَّمَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَتِهِ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ، وَكُلَّمَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِالصَّدَقَةِ انْقَبَضَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ إِلَى صَاحِبَتِهَا وَتَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ، وَانْضَمَّتْ يَدَاهُ إِلَى تَرَاقِيهِ، فَسَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فَيَجْتَهِدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا، فَلَا تَتَّسِعُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بخیل (جو زکوٰۃ نہیں دیتا) اور زکوٰۃ دینے والے (سخی) کی مثال دو آدمیوں جیسی ہے، دونوں لوہے کے کرتے (زرہ) پہنے ہوئے ہیں، دونوں کے ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہیں زکوٰۃ دینے والا (سخی) جب بھی زکوٰۃ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کرتہ اتنا کشادہ ہو جاتا ہے کہ زمین پر چلتے میں گھسٹتا جاتا ہے لیکن جب بخیل صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ایک ایک حلقہ اس کے بدن پر تنگ ہو جاتا ہے اور اس طرح سکڑ جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے جڑ جاتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا پھر بخیل اسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ڈھیلا نہیں ہوتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2917]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2916) باب پر واپس اگلی حدیث (2918) →