بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2909 — باب: تلوار کی آرائش کرنا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: جہاد کا بیان باب: تلوار کی آرائش کرنا۔ حدیث 2909
حدیث نمبر: 2909 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، سُلَيْمَانَ بْنَ حَبِيبٍ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ حَبِيبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ:" لَقَدْ فَتَحَ الْفُتُوحَ قَوْمٌ مَا كَانَتْ حِلْيَةُ سُيُوفِهِمُ الذَّهَبَ، وَلَا الْفِضَّةَ إِنَّمَا كَانَتْ حِلْيَتُهُمُ الْعَلَابِيَّ، وَالْآنُكَ وَالْحَدِيدَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن حبیب سے سنا، کہا میں نے ابوامامہ باہلی سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ ایک قوم (صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے بہت سی فتوحات کیں اور ان کی تلواروں کی آرائش سونے چاندی سے نہیں ہوئی تھی بلکہ اونٹ کی پشت کا چمڑہ، سیسہ اور لوہا ان کی تلواروں کے زیور تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2909]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2908) باب پر واپس اگلی حدیث (2910) →