بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2844 — باب: جو شخص غازی کا سامان تیار کر دے یا اس کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خبرگیری کرے، اس کی فضیلت۔
کتب صحیح بخاری کتاب: جہاد کا بیان باب: جو شخص غازی کا سامان تیار کر دے یا اس کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خبرگیری کرے، اس کی فضیلت۔ حدیث 2844
حدیث نمبر: 2844 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، هَمَّامٌ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ بَيْتًا بِالْمَدِينَةِ غَيْرَ بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِ، فَقِيلَ لَهُ: فَقَالَ: إِنِّي أَرْحَمُهَا قُتِلَ أَخُوهَا مَعِي".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ میں اپنی بیویوں کے سوا اور کسی کے گھر نہیں جایا کرتے تھے مگر ام سلیم کے پاس جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس پر رحم آتا ہے، اس کا بھائی (حرام بن ملحان) میرے کام میں شہید کر دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2844]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2843) باب پر واپس اگلی حدیث (2845) →