بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2784 — باب: جہاد کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے بیان میں۔
کتب صحیح بخاری کتاب: جہاد کا بیان باب: جہاد کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے بیان میں۔ حدیث 2784

Q2782 حوالہ جات (References)

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْقُرْءَانِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ إِلَى قَوْلِهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ سورة التوبة آية 111 - 112 قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْحُدُودُ: الطَّاعَةُ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «إن الله اشترى من المؤمنين أنفسهم وأموالهم بأن لهم الجنة يقاتلون في سبيل الله فيقتلون ويقتلون وعدا عليه حقا في التوراة والإنجيل والقرآن ومن أوفى بعهده من الله فاستبشروا ببيعكم الذي بايعتم به‏» بیشک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کے مال اس بدلے میں خرید لیے ہیں کہ انہیں جنت ملے گی ‘ وہ مسلمان اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور اس طرح (محارب کفار کو) یہ مارتے ہیں اور خود بھی مارے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ (کہ مسلمانوں کو ان کی قربانیوں کے نتیجے میں جنت ملے گی) سچا ہے ‘ تورات میں ‘ انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کا پورا کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟ پس خوش ہو جاؤ تم اپنے اس سودا کی وجہ سے جو تم نے اس کے ساتھ کیا ہے۔ آخر آیت «وبشر المؤمنين‏» تک ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ کی حدوں سے مراد اس کے احکام کی اطاعت ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: Q2782]
حدیث نمبر: 2784 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، خَالِدٌ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِتُرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ أَفَلَا نُجَاهِدُ، قَالَ: لَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حبیب بن ابی عمرہ نے بیان کیا عائشہ بنت طلحہ سے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا (ام المؤمنین) نے کہ انہوں پوچھا یا رسول اللہ! ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد افضل اعمال میں سے ہے پھر ہم (عورتیں) بھی کیوں نہ جہاد کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لیکن سب سے افضل جہاد مقبول حج ہے جس میں گناہ نہ ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2784]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2783) باب پر واپس اگلی حدیث (2785) →