بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2755 — باب: کیا وقف کرنے والا اپنے وقف سے خود بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
کتب صحیح بخاری کتاب: وصیتوں کے مسائل کا بیان باب: کیا وقف کرنے والا اپنے وقف سے خود بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ حدیث 2755

Q2754 حوالہ جات (References)

وَقَدِ اشْتَرَطَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، وَقَدْ يَلِي الْوَاقِفُ وَغَيْرُهُ، وَكَذَلِكَ كُلُّ مَنْ جَعَلَ بَدَنَةً أَوْ شَيْئًا لِلَّهِ فَلَهُ، أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا كَمَا يَنْتَفِعُ غَيْرُهُ، وَإِنْ لَمْ يَشْتَرِطْ.
اور عمر رضی اللہ عنہ نے شرط لگائی تھی (اپنے وقف کے لیے) کہ جو شخص اس کا متولی ہو اس کے لیے اس وقف میں سے کھا لینے سے کوئی حرج نہ ہو گا۔ (دستور کے مطابق) واقف خود بھی وقف کا مہتمم ہو سکتا ہے اور دوسرا شخص بھی۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے اونٹ یا کوئی اور چیز اللہ کے راستے میں وقف کی تو جس طرح دوسرے اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں خود وقف کرنے والا بھی اٹھا سکتا ہے اگرچہ (وقف کرتے وقت) اس کی شرط نہ لگائی ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: Q2754]
حدیث نمبر: 2755 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان نے اعرج سے اور ان ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا کہ ایک صاحب قربانی کا اونٹ ہانکے لیے جا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا لیکن انہوں نے معذرت کی کہ یا رسول اللہ! یہ تو قربانی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ سوار بھی ہو جا۔ افسوس! یہ کلمہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2755]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2754) باب پر واپس اگلی حدیث (2756) →