بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2739 — باب: اس بارے میں وصیتیں ضروری ہیں۔
کتب صحیح بخاری کتاب: وصیتوں کے مسائل کا بیان باب: اس بارے میں وصیتیں ضروری ہیں۔ حدیث 2739

Q2738 حوالہ جات (References)

وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَصِيَّةُ الرَّجُلِ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ، وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ سورة البقرة آية 180، فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 181، فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة البقرة آية 182 جَنَفًا مَيْلًا، مُتَجَانِفٌ مَائِلٌ.
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آدمی کی وصیت لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ البقرہ) میں فرمایا «كتب عليكم إذا حضر أحدكم الموت إن ترك خيرا الوصية للوالدين والأقربين بالمعروف حقا على المتقين * فمن بدله بعد ما سمعه فإنما إثمه على الذين يبدلونه إن الله سميع عليم * فمن خاف من موص جنفا أو إثما فأصلح بينهم فلا إثم عليه إن الله غفور رحيم‏» تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آتی معلوم ہو اور کچھ مال بھی چھوڑ رہا ہو تو وہ والدین اور عزیزوں کے حق میں دستور کے موافق وصیت کر جائے۔ یہ لازم ہے پرہیزگاروں پر۔ پھر جو کوئی اسے اس کے سننے کے بعد بدل ڈالے سو اس کا گناہ اسی پر ہو گا جو اسے بدلے گا ‘ بیشک اللہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔ البتہ جس کسی کو وصیت کرنے والے سے متعلق کسی کی طرفداری یا حق تلفی کا علم ہو جائے پھر وہ موصی لہ اور وارثوں میں (وصیت میں کچھ کمی کر کے) میل کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشش کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (آیت میں) «جنفا» کے معنی ایک طرف جھک جانے کے ہیں «متجانف» کے معنی جھکنے والے کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: Q2738]
حدیث نمبر: 2739 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، خَتَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخِي جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَ:" مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِرْهَمًا، وَلَا دِينَارًا، وَلَا عَبْدًا، وَلَا أَمَةً، وَلَا شَيْئًا إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ، وَسِلَاحَهُ، وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابراہیم بن حارث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ ابن ابی بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے زہیر بن معاویہ جعفی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نسبتی بھائی عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ نے جو جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا (ام المؤمنین) کے بھائی ہیں ‘ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی وفات کے بعد سوائے اپنے سفید خچر ‘ اپنے ہتھیار اور اپنی زمین کے جسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وقف کر گئے تھے نہ کوئی درہم چھوڑا تھا نہ دینار نہ غلام نہ باندی اور نہ کوئی چیز۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2739]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2738) باب پر واپس اگلی حدیث (2740) →