بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 264 — باب: کیا جنبی اپنے ہاتھوں کو دھونے سے پہلے برتن میں ڈال سکتا ہے؟ جب کہ جنابت کے سوا ہاتھ میں کوئی گندگی نہیں لگی ہوئی ہو۔
کتب صحیح بخاری کتاب: غسل کے احکام و مسائل باب: کیا جنبی اپنے ہاتھوں کو دھونے سے پہلے برتن میں ڈال سکتا ہے؟ جب کہ جنابت کے سوا ہاتھ میں کوئی گندگی نہیں لگی ہوئی ہو۔ حدیث 264

Q261 حوالہ جات (References)

وَأَدْخَلَ ابْنُ عُمَرَ، وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ يَدَهُ فِي الطَّهُورِ وَلَمْ يَغْسِلْهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَلَمْ يَرَ ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ بَأْسًا بِمَا يَنْتَضِحُ مِنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ.
‏‏‏‏ ابن عمر اور براء بن عازب رضی اللہ عنہم نے ہاتھ دھونے سے پہلے غسل کے پانی میں اپنا ہاتھ ڈالا تھا۔ اور ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم اس پانی سے غسل میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے جس میں غسل جنابت کا پانی ٹپک کر گر گیا ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: Q261]
أَبُو الْوَلِيدِ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، مُسْلِمٌ ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ"، زَادَ مُسْلِمٌ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ مِنَ الْجَنَابَةِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے عبداللہ بن عبداللہ بن جبر سے انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کی کوئی زوجہ مطہرہ ایک برتن میں غسل کرتے تھے۔ اس حدیث میں مسلم بن ابراہیم اور وہب بن جریر کی روایت میں شعبہ سے «من الجنابة‏» کا لفظ (زیادہ) ہے۔ (یعنی یہ جنابت کا غسل ہوتا تھا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 264]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (263) باب پر واپس اگلی حدیث (265) →