مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَبُو سَعِيدٍ
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ؟ فَقَالَ: وَيْحَكَ، إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَتُعْطِي صَدَقَتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَتَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا".
ترجمہ: مولانا داود راز
اور محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہجرت کے لیے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تم پر رحم کرے۔ ہجرت کا تو بڑا ہی دشوار معاملہ ہے۔ تمہارے پاس اونٹ بھی ہے؟“ انہوں نے کہا جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا ”اور اس کا صدقہ (زکوٰۃ) بھی ادا کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا ”اس میں سے کچھ ہدیہ بھی دیتے ہو؟“ انہوں نے کہا جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا ”تو تم اسے پانی پلانے کے لیے گھاٹ پر لے جانے والے دن دوہتے ہو گے؟“ انہوں نے کہا جی ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”سمندروں کے پار بھی اگر تم عمل کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں سے کوئی چیز کم نہیں کرے گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2633]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة