بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 259 — باب: اس بیان میں کہ غسل جنابت کرتے وقت کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: غسل کے احکام و مسائل باب: اس بیان میں کہ غسل جنابت کرتے وقت کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔ حدیث 259
عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشُ ، سَالِمٌ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةُ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا مَيْمُونَةُ، قَالَتْ:" صَبَبْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا، فَأَفْرَغَ بِيَمِينِهِ عَلَى يَسَارِهِ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ، ثُمَّ قَالَ: بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَهَا بِالتُّرَابِ ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَأَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِمِنْدِيلٍ فَلَمْ يَنْفُضْ بِهَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے، کہا مجھ سے سالم نے کریب کے واسطہ سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، کہا ہم سے میمونہ نے بیان فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا۔ تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی کو دائیں ہاتھ سے بائیں پر گرایا۔ اس طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا۔ پھر اپنی شرمگاہ کو دھویا۔ پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑ کر اسے مٹی سے ملا اور دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔ پھر اپنے چہرہ کو دھویا اور اپنے سر پر پانی بہایا۔ پھر ایک طرف ہو کر دونوں پاؤں دھوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رومال دیا گیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پانی کو خشک نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 259]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (258) باب پر واپس اگلی حدیث (260) →