بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2550 — باب: غلام پر دست درازی کرنا اور یوں کہنا کہ یہ میرا غلام ہے یا لونڈی مکروہ ہے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: غلاموں کی آزادی کے بیان میں باب: غلام پر دست درازی کرنا اور یوں کہنا کہ یہ میرا غلام ہے یا لونڈی مکروہ ہے۔ حدیث 2550

Q2550 حوالہ جات (References)

وَقَوْلِهِ عَبْدِي أَوْ أَمَتِي، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ سورة النور آية 32، وَقَالَ: عَبْدًا مَمْلُوكًا وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَى الْبَابِ سورة يوسف آية 25، وَقَالَ: مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ سورة النساء آية 25، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ، وَاذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ عِنْدَ سَيِّدِكَ وَمَنْ سَيِّدُكُمْ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ النور میں) فرمایا «والصالحين من عبادكم وإمائكم‏» اور تمہارے غلاموں اور تمہاری باندیوں میں جو نیک بخت ہیں اور (سورۃ النحل میں فرمایا) «عبدا مملوكا‏» مملوک غلام نیز (سورۃ یوسف میں فرمایا) «وألفيا سيدها لدى الباب‏» اور دونوں (یوسف اور زلیخا) نے اپنے آقا (عزیز مصر) کو دروازے پر پایا۔ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ نساء میں) فرمایا «من فتياتكم المؤمنات‏» تمہاری مسلمان باندیوں میں سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے سردار کو لینے کے لیے اٹھو (سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے لیے) اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ یوسف میں فرمایا «اذكرني عند ربك‏» (یوسف نے اپنے جیل خانہ کے ساتھی سے کہا تھا کہ) اپنے سردار (حاکم) کے یہاں میرا ذکر کر دینا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (بنو سلمہ سے دریافت فرمایا تھا کہ) تمہارا سردار کون ہے؟ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: Q2550]
حدیث نمبر: 2550 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا نَصَحَ الْعَبْدُ سَيِّدَهُ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ، كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے کہا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اپنے رب کی عبادت تمام حسن و خوبی کے ساتھ بجا لائے تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 2550]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2549) باب پر واپس اگلی حدیث (2551) →