بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2220 — باب: حربی کافر سے غلام لونڈی خریدنا اور اس کا آزاد کرنا اور ہبہ کرنا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب: حربی کافر سے غلام لونڈی خریدنا اور اس کا آزاد کرنا اور ہبہ کرنا۔ حدیث 2220

Q2217 حوالہ جات (References)

وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَلْمَانَ كَاتِبْ، وَكَانَ حُرًّا فَظَلَمُوهُ، وَبَاعُوهُ، وَسُبِيَ عَمَّارٌ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلَالٌ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ سورة النحل آية 71.
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اپنے (یہودی) مالک سے مکاتبت کر لے۔ حالانکہ سلمان رضی اللہ عنہ اصل میں پہلے ہی سے آزاد تھے۔ لیکن کافروں نے ان پر ظلم کیا کہ بیچ دیا اور اس طرح وہ غلام بنا دئیے گئے۔ اسی طرح عمار، صہیب اور بلال رضی اللہ عنہم بھی قید کر کے (غلام بنا لیے گئے تھے اور ان کے مالک مشرک تھے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے تم میں ایک کو ایک پر فضیلت دی ہے رزق میں۔ پھر جن کی روزی زیادہ ہے وہ اپنی لونڈی غلاموں کو دے کر اپنے برابر نہیں کر دیتے۔ کیا یہ لوگ اللہ کا احسان نہیں مانتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: Q2217]
حدیث نمبر: 2220 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ، أَوْ أَتَحَنَّتُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صِلَةٍ، وَعَتَاقَةٍ، وَصَدَقَةٍ، هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ حَكِيمٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالولیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی انہیں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ان نیک کاموں کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے، جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں صلہ رحمی، غلام آزاد کرنے اور صدقہ دینے کے سلسلہ میں کیا کرتا تھا کیا ان اعمال کا بھی مجھے ثواب ملے گا؟ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جتنی نیکیاں تم پہلے کر چکے ہو ان سب کے ساتھ اسلام لائے ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2220]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2219) باب پر واپس اگلی حدیث (2221) →