أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ، أَوْ أَتَحَنَّتُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صِلَةٍ، وَعَتَاقَةٍ، وَصَدَقَةٍ، هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ حَكِيمٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالولیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی انہیں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ان نیک کاموں کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے، جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں صلہ رحمی، غلام آزاد کرنے اور صدقہ دینے کے سلسلہ میں کیا کرتا تھا کیا ان اعمال کا بھی مجھے ثواب ملے گا؟ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جتنی نیکیاں تم پہلے کر چکے ہو ان سب کے ساتھ اسلام لائے ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2220]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة