بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2089 — باب: سناروں کا بیان۔
کتب صحیح بخاری کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب: سناروں کا بیان۔ حدیث 2089

Q2089 حوالہ جات (References)

وَقَالَ طَاوُسٌ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَبُيُوتِهِمْ، فَقَالَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ.
‏‏‏‏ اور طاؤس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر حرم کی حرمت بیان کرتے ہوئے) فرمایا تھا کہ حرم کی گھاس نہ کاٹی جائے، اس پر عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ اذخر (ایک خاص قسم کی گھاس) کی اجازت دے دیجئیے۔ کیونکہ یہ یہاں کے سناروں اور لوہاروں اور گھروں کے کام آتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، اچھا اذخر کاٹ لیا کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: Q2089]
حدیث نمبر: 2089 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدَانُ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ، عَلِيًّا
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ:" كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمْسِ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ، أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ، وَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرُسِي".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں یونس نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں زین العابدین علی بن حسین علیہ السلام نے خبر دی، انہیں حسین بن علی علیہ السلام نے خبر دی کہ علی علیہ السلام نے فرمایا کہ غنیمت کے مال میں سے میرے حصے میں ایک اونٹ آیا تھا اور ایک دوسرا اونٹ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خمس میں سے دیا تھا۔ پھر جب میرا ارادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کرا کے لانے کا ہوا تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے طے کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر گھاس (جمع کر کے) لائیں کیونکہ میرا ارادہ تھا کہ اسے سناروں کے ہاتھ بیچ کر اپنی شادی کے ولیمہ میں اس کی قیمت کو لگاؤں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2088) باب پر واپس اگلی حدیث (2090) →