بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2079 — باب: جب خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں صاف صاف بیان کر دیں اور ایک دوسرے کی بہتری چاہیں۔
کتب صحیح بخاری کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب: جب خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں صاف صاف بیان کر دیں اور ایک دوسرے کی بہتری چاہیں۔ حدیث 2079

Q2079 حوالہ جات (References)

وَيُذْكَرُ عَنْ الْعَدَّاءِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: كَتَبَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا مَا اشْتَرَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعَدَّاءِ بْنِ خَالِدٍ بَيْعَ الْمُسْلِمِ مِنَ الْمُسْلِمِ، لَا دَاءَ، وَلَا خِبْثَةَ، وَلَا غَائِلَةَ، وَقَالَ قَتَادَةُ: الْغَائِلَةُ الزِّنَا، وَالسَّرِقَةُ، وَالْإِبَاقُ، وَقِيلَ لِإِبْرَاهِيمَ: إِنَّ بَعْضَ النَّخَّاسِينَ يُسَمِّي آرِيَّ خُرَاسَانَ وَسِجِسْتَانَ، فَيَقُولُ: جَاءَ أَمْسِ مِنْ خُرَاسَانَ، جَاءَ الْيَوْمَ مِنْ سِجِسْتَانَ فَكَرِهَهُ كَرَاهِيَةً شَدِيدَةً، وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ: لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يَبِيعُ سِلْعَةً يَعْلَمُ أَنَّ بِهَا دَاءً إِلَّا أَخْبَرَهُ.
‏‏‏‏ اور عداء بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک بیع نامہ لکھ دیا تھا کہ یہ وہ کاغذ ہے جس میں محمد اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کا عداء بن خالد سے خریدنے کا بیان ہے۔ یہ بیع مسلمان کی ہے مسلمان کے ہاتھ، نہ اس میں کوئی عیب ہے نہ کوئی فریب نہ فسق و فجور، نہ کوئی بدباطنی ہے۔ اور قتادہ رحمہ اللہ نے کہا کہ غائلہ، زنا، چوری اور بھاگنے کی عادت کو کہتے ہیں۔ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے کسی نے کہا کہ بعض دلال (اپنے اصطبل کے) نام آری خراسان اور سجستان (خراسانی اصطبل اور سجستانی اصطبل) رکھتے ہیں اور (دھوکہ دینے کے لیے) کہتے ہیں کہ فلاں جانور کل ہی خراسان سے آیا تھا۔ اور فلاں آج ہی سجستان سے آیا ہے۔ تو ابراہیم نخعی نے اس بات کو بہت زیادہ ناگواری کے ساتھ سنا۔ عقبہ بن عامر نے کہا کہ کسی شخص کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ کوئی سودا بیچے اور یہ جاننے کے باوجود کہ اس میں عیب ہے خریدنے والے کو اس کے متعلق کچھ نہ بتائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: Q2079]
حدیث نمبر: 2079 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، رَفَعَهُ إِلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ قَالَ حَتَّى يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے ان سے صالح ابوخلیل نے، ان سے عبیداللہ بن حارث نے، انہوں نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، خریدنے اور بیچنے والوں کو اس وقت تک اختیار (بیع ختم کر دینے کا) ہے جب تک دونوں جدا نہ ہوں یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ( «ما لم يتفرقا» کے بجائے) «حتى يتفرقا» فرمایا۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا) پس اگر دونوں نے سچائی سے کام لیا اور ہر بات صاف صاف کھول دی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہوتی ہے لیکن اگر کوئی بات چھپا رکھی یا جھوٹ کہی تو ان کی برکت ختم کر دی جاتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2079]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2078) باب پر واپس اگلی حدیث (2080) →