مُحَمَّدٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حُصَيْنٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَقْبَلَتْ عِيرٌ، وَنَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، فَانْفَضَّ النَّاسُ إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے حصین نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (تجارتی) اونٹوں (کا قافلہ) آیا۔ ہم اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جمعہ (کے خطبہ) میں شریک تھے۔ بارہ صحابہ کے سوا باقی تمام حضرات ادھر چلے گئے اس پر یہ آیت اتری «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» ”جب سوداگری یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2064]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة