بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2054 — باب: ملتی جلتی چیزیں یعنی شبہ والے امور کیا ہیں؟
کتب صحیح بخاری کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب: ملتی جلتی چیزیں یعنی شبہ والے امور کیا ہیں؟ حدیث 2054

Q2052 حوالہ جات (References)

وَقَالَ حَسَّانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَهْوَنَ مِنَ الْوَرَعِ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ.
‏‏‏‏ اور حسان بن ابی سنان نے کہا کہ «ورع» (پرہیزگاری) سے زیادہ آسان کوئی چیز میں نے نہیں دیکھی، بس شبہ کی چیزوں کو چھوڑ اور وہ راستہ اختیار کر جس میں کوئی شبہ نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: Q2052]
حدیث نمبر: 2054 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْوَلِيدِ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ: إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ، فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُرْسِلُ كَلْبِي وَأُسَمِّي، فَأَجِدُ مَعَهُ عَلَى الصَّيْدِ كَلْبًا آخَرَ، لَمْ أُسَمِّ عَلَيْهِ وَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ، قَالَ: لَا تَأْكُلْ، إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى الْآخَرِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن ابی سفر نے خبر دی، انہیں شعبی نے، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے «معراض» (تیر کے شکار) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کے دھار کی طرف سے لگے تو کھا۔ اگر چوڑائی سے لگے تو مت کھا۔ کیونکہ وہ مردار ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنا کتا (شکار کے لیے) چھوڑتا ہوں اور بسم اللہ پڑھ لیتا ہوں، پھر اس کے ساتھ مجھے ایک ایسا کتا اور ملتا ہے جس پر میں نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہے۔ میں یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ دونوں میں کون سے کتے نے شکار پکڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ایسے شکار کا گوشت نہ کھا۔ کیونکہ تو نے بسم اللہ تو اپنے کتے کے لیے پڑھی ہے۔ دوسرے کے لیے تو نہیں پڑھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2054]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2053) باب پر واپس اگلی حدیث (2055) →