بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2052 — باب: ملتی جلتی چیزیں یعنی شبہ والے امور کیا ہیں؟
کتب صحیح بخاری کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب: ملتی جلتی چیزیں یعنی شبہ والے امور کیا ہیں؟ حدیث 2052

Q2052 حوالہ جات (References)

وَقَالَ حَسَّانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَهْوَنَ مِنَ الْوَرَعِ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ.
‏‏‏‏ اور حسان بن ابی سنان نے کہا کہ «ورع» (پرہیزگاری) سے زیادہ آسان کوئی چیز میں نے نہیں دیکھی، بس شبہ کی چیزوں کو چھوڑ اور وہ راستہ اختیار کر جس میں کوئی شبہ نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: Q2052]
حدیث نمبر: 2052 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، سُفْيَانُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ؟، جَاءَتْ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا، فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَيْفَ؟ وَقَدْ قِيلَ: وَقَدْ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ التَّمِيمِيِّ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ ایک سیاہ فام خاتون آئیں اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ان دونوں (عقبہ اور ان کی بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔ عقبہ نے اس امر کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور مسکرا کر فرمایا۔ اب جب کہ ایک بات کہہ دی گئی تو تم دونوں ایک ساتھ کس طرح رہ سکتے ہو۔ ان کے نکاح میں ابواہاب تمیمی کی صاحب زادی تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2052]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2051) باب پر واپس اگلی حدیث (2053) →