بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2049 — باب: اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق احادیث کہ پھر جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ (یعنی رزق حلال کی تلاش میں اپنے کاروبار کو سنبھال لو) اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تمہارا بھلا ہو۔ اور جب انہوں نے سودا بکتے دیکھا یا کوئی تماشا دیکھا تو اس کی طرف متفرق ہو گئے اور تجھ کو کھڑا چھوڑ دیا۔ تو کہہ دے کہ جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ تماشے اور سوداگری سے بہتر ہے اور اللہ ہی ہے بہتر رزق دینے والا“۔
کتب صحیح بخاری کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب: اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق احادیث کہ پھر جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ (یعنی رزق حلال کی تلاش میں اپنے کاروبار کو سنبھال لو) اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تمہارا بھلا ہو۔ اور جب انہوں نے سودا بکتے دیکھا یا کوئی تماشا دیکھا تو اس کی طرف متفرق ہو گئے اور تجھ کو کھڑا چھوڑ دیا۔ تو کہہ دے کہ جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ تماشے اور سوداگری سے بہتر ہے اور اللہ ہی ہے بہتر رزق دینے والا“۔ حدیث 2049

Q2047 حوالہ جات (References)

وَقَوْلِهِ: {لاَ تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ}.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ تم لوگ ایک دوسرے کا مال غلط طریقوں سے نہ کھاؤ، مگر یہ کہ تمہارے درمیان کوئی تجارت کا معاملہ ہو تو آپس کی رضا مندی کے ساتھ (معاملہ ٹھیک ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: Q2047]
حدیث نمبر: 2049 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ، فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ سَعْدٌ ذَا غِنًى، فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ وَأُزَوِّجُكَ، قَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ، فَمَا رَجَعَ حَتَّى اسْتَفْضَلَ أَقِطًا وَسَمْنًا، فَأَتَى بِهِ أَهْلَ مَنْزِلِهِ فَمَكَثْنَا يَسِيرًا، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَجَاءَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْيَمْ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: مَا سُقْتَ إِلَيْهَا، قَالَ: نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ان سے زہیر نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا بھائی چارہ سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے کرا دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ مالدار آدمی تھے۔ انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا میں اور آپ میرے مال سے آدھا آدھا لے لیں۔ اور میں (اپنی ایک بیوی سے) آپ کی شادی کرا دوں۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں کہا اللہ تعالیٰ آپ کے اہل اور آپ کے مال میں برکت عطا فرمائے، مجھے تو آپ بازار کا راستہ بتا دیجئیے، پھر وہ بازار سے اس وقت تک واپس نہ ہوئے جب تک نفع میں کافی پنیر اور گھی نہ بچا لیا۔ اب وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئے کچھ دن گزرے ہوں گے یا اللہ نے جتنا چاہا۔ اس کے بعد وہ آئے کہ ان پر زردی کا نشان تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ زردی کیسی ہے؟ عرض کیا، یا رسول اللہ! میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ انہیں مہر میں کیا دیا ہے؟ عرض کیا سونے کی ایک گٹھلی یا (یہ کہا کہ) ایک گٹھلی برابر سونا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اب ولیمہ کر، اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2049]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2048) باب پر واپس اگلی حدیث (2050) →