إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، ابْنَ جُرَيْجٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبَا الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، يَزِيدَ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍأَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ:" نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، وَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ"، قَالَ: وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُفَارِقُ عُقْبَةَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن ابی ایوب نے خبر دی، انہیں یزید بن حبیب نے خبر دی، انہیں ابوالخیر نے خبر دی، کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا میری بہن نے منت مانی تھی کہ بیت اللہ تک وہ پیدل جائیں گی، پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی پوچھ لو چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ پیدل چلیں اور سوار بھی ہو جائیں۔ یزید نے کہا کہ ابوالخیر ہمیشہ عقبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1866]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة