مُسَدَّدٌ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِين رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَغْزُو وَنُجَاهِدُ مَعَكُمْ؟ فَقَالَ: لَكِنَّ أَحْسَنَ الْجِهَادِ وَأَجْمَلَهُ الْحَجُّ حَجٌّ مَبْرُورٌ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَا أَدَعُ الْحَجَّ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے حبیب بن عمرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عائشہ بنت طلحہ نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم بھی کیوں نہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جہاد اور غزووں میں جایا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں کے لیے سب سے عمدہ اور سب سے مناسب جہاد حج ہے، وہ حج جو مقبول ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد سن لیا ہے حج کو میں کبھی چھوڑنے والی نہیں ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1861]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة