إِسْحَاقُ ، رَوْحٌ ، شِبْلٌ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ، وَأَنَّهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَلَمْ يَتَبَيَّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةٍ، أَوْ يُهْدِيَ شَاةً، أَوْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، ان سے شبل بن عباد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا ان جوؤں سے تمہیں تکلیف ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنا سر منڈا لیں۔ وہ اس وقت حدیبیہ میں تھے۔ (صلح حدیبیہ کے سال) اور کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ حدیبیہ ہی میں رہ جائیں گے بلکہ سب کی خواہش یہ تھی کہ مکہ میں داخل ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ چھ مسکینوں کو ایک فرق (یعنی تین صاع غلہ) تقسیم کر دیا جائے یا ایک بکری کی قربانی کرے یا تین دن کے روزے رکھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمُحْصَرِ/حدیث: 1817]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة