بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 180 — باب: اس بارے میں کہ بعض لوگوں کے نزدیک صرف پیشاب اور پاخانے کی راہ سے کچھ نکلنے سے وضو ٹوٹتا ہے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: وضو کے بیان میں باب: اس بارے میں کہ بعض لوگوں کے نزدیک صرف پیشاب اور پاخانے کی راہ سے کچھ نکلنے سے وضو ٹوٹتا ہے۔ حدیث 180

Q176 حوالہ جات (References)

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ} وَقَالَ عَطَاءٌ فِيمَنْ يَخْرُجُ مِنْ دُبُرِهِ الدُّودُ أَوْ مِنْ ذَكَرِهِ نَحْوُ الْقَمْلَةِ يُعِيدُ الْوُضُوءَ. وَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِذَا ضَحِكَ فِي الصَّلاَةِ أَعَادَ الصَّلاَةَ، وَلَمْ يُعِدِ الْوُضُوءَ. وَقَالَ الْحَسَنُ إِنْ أَخَذَ مِنْ شَعَرِهِ وَأَظْفَارِهِ أَوْ خَلَعَ خُفَّيْهِ فَلاَ وُضُوءَ عَلَيْهِ. وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ حَدَثٍ. وَيُذْكَرُ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ فَرُمِيَ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَنَزَفَهُ الدَّمُ فَرَكَعَ وَسَجَدَ، وَمَضَى فِي صَلاَتِهِ. وَقَالَ الْحَسَنُ مَا زَالَ الْمُسْلِمُونَ يُصَلُّونَ فِي جِرَاحَاتِهِمْ. وَقَالَ طَاوُسٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ وَعَطَاءٌ وَأَهْلُ الْحِجَازِ لَيْسَ فِي الدَّمِ وُضُوءٌ. وَعَصَرَ ابْنُ عُمَرَ بَثْرَةً فَخَرَجَ مِنْهَا الدَّمُ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. وَبَزَقَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى دَمًا فَمَضَى فِي صَلاَتِهِ. وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَالْحَسَنُ فِيمَنْ يَحْتَجِمُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلاَّ غَسْلُ مَحَاجِمِهِ.
‏‏‏‏ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی قضاء حاجت سے فارغ ہو کر آئے تو تم پانی نہ پاؤ تو تیمم کر لو۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس شخص کے پچھلے حصہ سے (یعنی دبر سے) یا اگلے حصہ سے (یعنی ذکر یا فرج سے) کوئی کیڑا یا جوں کی قسم کا کوئی جانور نکلے اسے چاہیے کہ وضو لوٹائے اور جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ جب (آدمی) نماز میں ہنس پڑے تو نماز لوٹائے اور وضو نہ لوٹائے اور حسن (بصری) نے کہا کہ جس شخص نے (وضو کے بعد) اپنے بال اتروائے یا ناخن کٹوائے یا موزے اتار ڈالے اس پر وضو نہیں ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وضو حدث کے سوا کسی اور چیز سے فرض نہیں ہے اور جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذات الرقاع کی لڑائی میں (تشریف فرما) تھے۔ ایک شخص کے تیر مارا گیا اور اس (کے جسم) سے بہت خون بہا مگر اس نے پھر بھی رکوع اور سجدہ کیا اور نماز پوری کر لی اور حسن بصری نے کہا کہ مسلمان ہمیشہ اپنے زخموں کے باوجود نماز پڑھا کرتے تھے اور طاؤس، محمد بن علی اور اہل حجاز کے نزدیک خون (نکلنے) سے وضو (واجب) نہیں ہوتا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے (اپنی) ایک پھنسی کو دبا دیا تو اس سے خون نکلا۔ مگر آپ نے (دوبارہ) وضو نہیں کیا اور ابن ابی اوفی نے خون تھوکا۔ مگر وہ اپنی نماز پڑھتے رہے اور ابن عمر اور حسن رضی اللہ عنہم پچھنے لگوانے والے کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ جس جگہ پچھنے لگے ہوں اس کو دھولے، دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: Q176]
إِسْحَاقُ ، النَّضْرُ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَهْبٌ ، شُعْبَةُ ، غُنْدَرٌ ، وَيَحْيَى ، شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ قُحِطْتَ فَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ" تَابَعَهُ وَهْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَلَمْ يَقُلْ غُنْدَرٌ، وَيَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ الْوُضُوءُ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہمیں نضر نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے حکم کے واسطے سے بتلایا، وہ ذکوان سے، وہ ابوصالح سے، وہ ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انصاری کو بلایا۔ وہ آئے تو ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا۔ انہوں نے کہا، جی ہاں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی جلدی (کا کام) آ پڑے یا تمہیں انزال نہ ہو تو تم پر وضو ہے (غسل ضروری نہیں)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 180]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (179) باب پر واپس اگلی حدیث (181) →