عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمُ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ، فَقَالَتْ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَقْرَى حَلْقَى، أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ؟ قِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: فَانْفِرِي"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عمرو بن حفص نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مکہ سے روانگی کی رات صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ تھیں، انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے میں ان لوگوں کے روکنے کا باعث بن جاؤں گی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا «عقرى حلقى» کیا تو نے قربانی کے دن طواف الزیارۃ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ جی ہاں کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1771]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة