عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا أَوْ قَلَّدْتُهَا، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى البيت وَأَقَامَ بالمدينة، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حِلٌّ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے قلادے خود بٹے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اشعار کیا اور ہار پہنایا، یا میں نے ہار پہنایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کے لیے انہیں بھیج دیا اور خود مدینہ میں ٹھہر گئے لیکن کوئی بھی ایسی چیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے حرام نہیں ہوئی جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے حلال تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1699]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة