بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 1697 — باب: گائے اونٹ وغیرہ قربانی کے جانوروں کے قلاوے بٹنے کا بیان۔
کتب صحیح بخاری کتاب: حج کے مسائل کا بیان باب: گائے اونٹ وغیرہ قربانی کے جانوروں کے قلاوے بٹنے کا بیان۔ حدیث 1697
حدیث نمبر: 1697 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ، قَالَ:" إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے کہ مجھے نافع نے خبر دی انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہا میں نے کہا: یا رسول اللہ! اور لوگ تو حلال ہو گئے لیکن آپ حلال نہیں ہوئے، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بالوں کو جما لیا ہے اور اپنی ہدی کو قلادہ پہنا دیا ہے، اس لیے جب تک حج سے بھی حلال نہ ہو جاؤں میں (درمیان میں) حلال نہیں ہو سکتا، (گوند لگا کر سر کے بالوں کا جما لینا اس کو تلبید کہتے ہیں)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1697]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (1696) باب پر واپس اگلی حدیث (1698) →