أَصْبَغُ ، ابْنِ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لِعُرْوَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ذَكَرْتُ لِعُرْوَةَ، قال: فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،"أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِثْلَهُ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ , وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَهُ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَهَلَّتْ هِيَ , وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن حارث نے محمد بن عبدالرحمٰن ابوالاسود سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے عروہ سے (حج کا مسئلہ) پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب (مکہ) تشریف لائے تو سب سے پہلا کام آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ کیا کہ وضو کیا پھر طواف کیا اور طواف کرنے سے عمرہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح حج کیا۔ پھر عروہ نے کہا کہ میں نے اپنے والد زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی سب سے پہلے طواف کیا۔ مہاجرین اور انصار کو بھی میں نے اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔ میری والدہ (اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا) نے بھی مجھے بتایا کہ انہوں نے اپنی بہن (عائشہ رضی اللہ عنہا) اور زبیر اور فلاں فلاں کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ جب ان لوگوں نے حجر اسود کو بوسہ دے لیا تو احرام کھول ڈالا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1615]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة