بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 1537 — باب: احرام باندھنے کے وقت خوشبو لگانا اور احرام کے ارادہ کے وقت کیا پہننا چاہئے اور کنگھا کرے اور تیل لگائے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: حج کے مسائل کا بیان باب: احرام باندھنے کے وقت خوشبو لگانا اور احرام کے ارادہ کے وقت کیا پہننا چاہئے اور کنگھا کرے اور تیل لگائے۔ حدیث 1537

Q1537 حوالہ جات (References)

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: يَشَمُّ الْمُحْرِمُ الرَّيْحَانَ , وَيَنْظُرُ فِي الْمِرْآةِ , وَيَتَدَاوَى بِمَا يَأْكُلُ الزَّيْتِ وَالسَّمْنِ , وَقَالَ عَطَاءٌ: يَتَخَتَّمُ وَيَلْبَسُ الْهِمْيَانَ وَطَافَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُحْرِمٌ وَقَدْ حَزَمَ عَلَى بَطْنِهِ بِثَوْبٍ وَلَمْ تَرَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِالتُّبَّانِ بَأْسًا لِلَّذِينَ يَرْحَلُونَ هَوْدَجَهَا.
‏‏‏‏ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ محرم خوشبودار پھول سونگھ سکتا ہے۔ اسی طرح آئینہ دیکھ سکتا ہے اور ان چیزوں کو جو کھائی جاتی ہیں بطور دوا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ مثلاً زیتون کا تیل اور گھی وغیرہ۔ اور عطاء نے فرمایا کہ محرم انگوٹھی پہن سکتا ہے اور ہمیانی باندھ سکتا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے طواف کیا اس وقت آپ محرم تھے لیکن پیٹ پر ایک کپڑا باندھا رکھا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جانگئے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد اس حکم سے ان لوگوں کے لیے تھی جو ان کے ہودج کو اونٹ پر کسا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: Q1537]
حدیث نمبر: 1537 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، لِإِبْرَاهِيمَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَدَّهِنُ بِالزَّيْتِ، فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ، قَالَ: مَا تَصْنَعُ؟ , بِقَوْلِهِ:
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سادہ تیل استعمال کرتے تھے (احرام کے باوجود) میں نے اس کا ذکر ابراہیم نخعی سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات نقل کرتے ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1537]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (1536) باب پر واپس اگلی حدیث (1538) →