مُؤَمَّلٌ ، إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبَ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , قَالَ: قَال ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ وَمَعَهُ بِلَالٌ نَاشِرَ ثَوْبِهِ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي، وَأَشَارَ أَيُّوبُ إِلَى أُذُنِهِ وَإِلَى حَلْقِهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اسماعیل نے ایوب سے بیان کیا اور ان سے عطاء بن ابی رباح نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا اس وقت میں موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز (عید) پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا کہ عورتوں تک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز نہیں پہنچی ‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس بھی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے جو اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کو وعظ سنایا اور ان سے صدقہ کرنے کے لیے فرمایا اور عورتیں (اپنا صدقہ بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔ یہ کہتے وقت ایوب نے اپنے کان اور گلے کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1449]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة