بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 1407 — باب: جس مال کی زکوٰۃ دے دی جائے وہ کنز (خزانہ) نہیں ہے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: زکوۃ کے مسائل کا بیان باب: جس مال کی زکوٰۃ دے دی جائے وہ کنز (خزانہ) نہیں ہے۔ حدیث 1407

Q1404 حوالہ جات (References)

لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ» .
‏‏‏‏ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: Q1404]
حدیث نمبر: 1407 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَيَّاشٌ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبُو الْعَلَاءِ بْنُ الشِّخِّيرِ ، الْأَحْنَفَ بْنَ قَيْسٍ
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ , قَالَ: جَلَسْتُ. ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ بْنُ الشِّخِّيرِ، أَنَّ الْأَحْنَفَ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ:" جَلَسْتُ إِلَى مَلَإٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَجَاءَ رَجُلٌ خَشِنُ الشَّعَرِ وَالثِّيَابِ وَالْهَيْئَةِ حَتَّى قَامَ عَلَيْهِمْ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، ثُمَّ يُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفِهِ وَيُوضَعُ عَلَى نُغْضِ كَتِفِهِ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيِهِ يَتَزَلْزَلُ، ثُمَّ وَلَّى فَجَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ وَتَبِعْتُهُ وَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَأَنَا لَا أَدْرِي مَنْ هُوَ، فَقُلْتُ لَهُ: لَا أُرَى الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ كَرِهُوا الَّذِي قُلْتَ , قَالَ: إِنَّهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید جریری نے ابوالعلاء یزید سے بیان کیا ‘ ان سے احنف بن قیس نے ‘ انہوں نے کہا کہ میں بیٹھا تھا (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے سعید جریری نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوالعلاء بن شخیر نے بیان کیا ‘ ان سے احنف بن قیس نے بیان کیا کہ میں قریش کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں سخت بال ‘ موٹے کپڑے اور موٹی جھوٹی حالت میں ایک شخص آیا اور کھڑے ہو کر سلام کیا اور کہا کہ خزانہ جمع کرنے والوں کو اس پتھر کی بشارت ہو جو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور اس کی چھاتی کی بھٹنی پر رکھ دیا جائے گا جو مونڈھے کی طرف سے پار ہو جائے گا۔ اس طرح وہ پتھر برابر ڈھلکتا رہے گا۔ یہ کہہ کر وہ صاحب چلے گئے اور ایک ستون کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ چلا اور ان کے قریب بیٹھ گیا۔ اب تک مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ کون صاحب ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کی بات قوم نے پسند نہیں کی۔ انہوں نے کہا یہ سب تو بیوقوف ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1407]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (1406) باب پر واپس اگلی حدیث (1408) →