بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 1400 — باب: زکوٰۃ دینا فرض ہے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: زکوۃ کے مسائل کا بیان باب: زکوٰۃ دینا فرض ہے۔ حدیث 1400

Q1395 Q1398 حوالہ جات (References)

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ سورة البقرة آية 43 , وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ حَدِيثَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ , وَالزَّكَاةِ , وَالصِّلَةِ , وَالْعَفَافِ.
‏‏‏‏ اور اللہ عزوجل نے فرمایا کہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے متعلق (قیصر روم سے اپنی) گفتگو نقل کی کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں وہ نماز ‘ زکوٰۃ ‘ صلہ رحمی ‘ ناطہٰ جوڑنے اور حرام کاری سے بچنے کا حکم دیتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: Q1395]
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي حَيَّانَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو زُرْعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.
‏‏‏‏ ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے ‘ ان سے ابوحیان نے ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوزرعہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: Q1398]
حدیث نمبر: 1400 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
فَقَالَ: وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ , وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ , وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَدْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَعَرَفْتُ، أَنَّهُ الْحَقُّ".
ترجمہ: مولانا داود راز
اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ قسم اللہ کی میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو زکوٰۃ اور نماز میں تفریق کرے گا۔ (یعنی نماز تو پڑھے مگر زکوٰۃ کے لیے انکار کر دے) کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر انہوں نے زکوٰۃ میں چار مہینے کی (بکری کے) بچے کو دینے سے بھی انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے لڑوں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بخدا یہ بات اس کا نتیجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا تھا اور بعد میں، میں بھی اس نتیجہ پر پہنچا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی حق پر تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1400]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (1399) باب پر واپس اگلی حدیث (1401) →