بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 1348 — باب: بغلی قبر میں کون آگے رکھا جائے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: بغلی قبر میں کون آگے رکھا جائے۔ حدیث 1348

Q1347 Q1349 حوالہ جات (References)

وَسُمِّيَ اللَّحْدَ لِأَنَّهُ فِي نَاحِيَةٍ وَكُلُّ جَائِرٍ مُلْحِدٌ مُلْتَحَدًا مَعْدِلًا وَلَوْ كَانَ مُسْتَقِيمًا كَانَ ضَرِيحًا.
‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ بغلی قبر کو لحد اس لیے کہا گیا کہ یہ ایک کونے میں ہوتی ہے اور ہر «جائر» (اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی چیز) کو ملحد کہیں گے۔ اسی سے ہے (سورۃ الکہف میں) لفظ «ملتحدا» یعنی پناہ کا کونہ اور اگر قبر سیدھی (صندوقی) ہو تو اسے «ضريح» کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: Q1347]
وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
‏‏‏‏ اور سلیمان بن کثیر نے بیان کیا کہ مجھ سے زہری نے بیان کیا ‘ ان سے اس شخص نے بیان کیا جنہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: Q1349]
حدیث نمبر: 1348 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِقَتْلَى أُحُدٍ: أَيُّ هَؤُلَاءِ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟ , فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى رَجُلٍ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ قَبْلَ صَاحِبِهِ، وَقَالَ جَابِرٌ: فَكُفِّنَ أَبِي وَعَمِّي فِي نَمِرَةٍ وَاحِدَةٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
پھر ہمیں امام اوزاعی نے خبر دی۔ انہیں زہری نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پوچھتے جاتے تھے کہ ان میں قرآن زیادہ کس نے حاصل کیا ہے؟ جس کی طرف اشارہ کر دیا جاتا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لحد میں اسی کو دوسرے سے آگے بڑھاتے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میرے والد اور چچا کو ایک ہی کمبل میں کفن دیا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1348]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (1347) باب پر واپس اگلی حدیث (1349) →