عَائِشَةَ
فَصَدَّقَتْ يَعْنِي عَائِشَةَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ فَرَّطْتُ ضَيَّعْتُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی تصدیق کی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ ارشاد خود سنا ہے۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر تو ہم نے بہت سے قیراطوں کا نقصان اٹھایا۔ (سورۃ الزمر میں جو لفظ) «فرطت» آیا ہے اس کے یہی معنی ہیں میں نے ضائع کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1324]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة