بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 1291 — باب: میت پر نوحہ کرنا مکروہ ہے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: میت پر نوحہ کرنا مکروہ ہے۔ حدیث 1291

Q1291 حوالہ جات (References)

وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْهُنَّ يَبْكِينَ عَلَى أَبِي سُلَيْمَانَ مَا لَمْ يَكُنْ نَقْعٌ أَوْ لَقْلَقَةٌ وَالنَّقْعُ التُّرَابُ عَلَى الرَّأْسِ وَاللَّقْلَقَةُ الصَّوْتُ.
‏‏‏‏ اور عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ‘ عورتوں کو ابوسلیمان (خالد بن ولید) پر رونے دے جب تک وہ خاک نہ اڑائیں اور چلائیں نہیں۔ «نقع» سر پر مٹی ڈالنے کو اور «قلقة‏» چلانے کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: Q1291]
حدیث نمبر: 1291 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو نُعَيْمٍ ، سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، الْمُغِيرَةِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن عبید نے ‘ ان سے علی بن ربیعہ نے اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بھی سنا کہ کسی میت پر اگر نوحہ و ماتم کیا جائے تو اس نوحہ کی وجہ سے بھی اس پر عذاب ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1291]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (1290) باب پر واپس اگلی حدیث (1292) →