يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، اللَّيْثُ ، جَعْفَرٍ ، الْأَعْرَجِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ الْأَعْرَجِ , قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أُذِّنَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ أَدْبَرَ، فَإِذَا سَكَتَ أَقْبَلَ فَلَا يَزَالُ بِالْمَرْءِ يَقُولُ لَهُ اذْكُرْ مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى"، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَسَمِعَهُ أَبُو سَلَمَةَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے، ان سے جعفر بن ربیعہ نے اور ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ موڑ کر ریاح خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے۔ جب مؤذن چپ ہو جاتا ہے تو مردود پھر آ جاتا ہے اور جب جماعت کھڑی ہونے لگتی ہے (اور تکبیر کہی جاتی ہے) تو پھر بھاگ جاتا ہے۔ لیکن جب مؤذن چپ ہو جاتا ہے تو پھر آ جاتا ہے۔ اور آدمی کے دل میں وسواس پیدا کرتا رہتا ہے۔ کہتا ہے کہ (فلاں فلاں بات) یاد کر۔ کم بخت وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو اس نمازی کے ذہن میں بھی نہ تھیں۔ اس طرح نمازی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ جب کوئی یہ بھول جائے (کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں) تو بیٹھے بیٹھے (سہو کے) دو سجدے کر لے۔ ابوسلمہ نے یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1222]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة