بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سچ اور جھوٹ کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں سچ اور جھوٹ کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 1819 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْذِبُ امْرَأَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا خَيْرَ فِي الْكَذِبِ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعِدُهَا وَأَقُولُ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا جُنَاحَ عَلَيْكَ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: میں اپنی عورت سے جھوٹ بولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ بولنا اچھا نہیں ہے اور اس میں کچھ بھلائی و خیر نہیں ہے۔ پھر وہ شخص بولا: میں اپنی عورت سے وعدہ کروں اور اس سے کہوں میں تیرے لیے یوں کر دوں گا، یہ بنا دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس میں کچھ گناہ نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1819]
تخریج الحدیث
«مرفوع ضعيف، وأخرجه عبدالله بن وهب فى الجامع: 534، وابن عبدالبر فى «التمهيد» برقم: 247/16، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 15»
حدیث نمبر: 1820 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، كَانَ يَقُولُ: " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَالْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَالْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ يُقَالُ: صَدَقَ وَبَرَّ، وَكَذَبَ وَفَجَرَ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے (بخاری مسلم نے اس کو مرفوعاً روایت کیا ہے): لازم جانوں تم سچ بولنے کو، کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ بتاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے، اور بچو تم جھوٹ سے، کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ بتاتا ہے اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے، کیا تم نے نہیں سنا لوگ کہتے ہیں: فلاں نے سچ کہا اور نیک ہوا، جھوٹ بولا اور بدکار ہوا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1820]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، مرفوع صحيح
شیخ سلیم ہلالی نے کہا کہے کہ اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے البتہ اس میں جو فرمان مذکور ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت ہے۔ دیکھئے بخاری: 6094 و مسلم: 2607، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 16»
حدیث نمبر: 1821 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّهُ قِيلَ لِلُقْمَانَ: مَا بَلَغَ بِكَ مَا نَرَى يُرِيدُونَ الْفَضْلَ، فَقَالَ لُقْمَانُ: صِدْقُ الْحَدِيثِ، وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ، وَتَرْكُ مَا لَا يَعْنِينِي
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ حضرت لقمان علیہ السلام سے کسی نے پوچھا کہ تم کو کس وجہ سے اتنی بزرگی حاصل ہوئی؟ حضرت لقمان علیہ السلام نے کہا: سچ بولنے سے، امانت داری سے، اور لغو کام چھوڑ دینے سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1821]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح لغيره، وأخرجه والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 4990، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 26491، 37032، أبو نعيم فى «حلية الاولياء» برقم: 33/1، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 17»
حدیث نمبر: 1822 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَقُولُ: " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَكْذِبُ وَتُنْكَتُ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ حَتَّى يَسْوَدَّ قَلْبُهُ كُلُّهُ، فَيُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْكَاذِبِينَ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہمشہ آدمی جھوٹ بولا کرتا ہے، پہلے اس کے دل میں ایک نکتہ سیاہ ہوتا ہے، پھر سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ (اس کا نام) اللہ کے ہاں جھوٹوں میں لکھ لیا جاتا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1822]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه عبدالله بن وهب فى «الجامع» : 524، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 18»
حدیث نمبر: 1823 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ"، فَقِيلَ لَهُ:" أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ بَخِيلًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ"، فَقِيلَ لَهُ:" أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ كَذَّابًا؟ فَقَالَ: لَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے پوچھا: کیا مؤمن بودا بزدل ہو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر پوچھا: کیا مؤمن بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر پوچھا: کیا مؤمن جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1823]
تخریج الحدیث
«مرفوع ضعيف، وأخرجه عبدالله بن وهب فى «الجامع» : 521، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 4812، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 19»