ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنِ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيِّ
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهَا، فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ، حَتَّى قَالَ: " اعْلِفْهُ نُضَّاحَكَ" يَعْنِي رَقِيقَكَ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا ابن محیصہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: حجام کی اجرت کو اپنے خرچ میں لانا کیسا ہے؟ (کیونکہ ان کے غلام ابو طیبہ حجام تھے وہ چاہتے تھے اس کی کمائی کھائیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع کیا (مگر یہ ممانعت تنزیہاً ہے اکثر علماء کے نزدیک)۔ وہ ہمیشہ پوچھا کر تے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت مانگتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی کمائی اپنے اونٹوں اور غلاموں کی خوراک میں صرف کر۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1784]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5154، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24090، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 4658، وله شواهد من حديث محيصة بن مسعود بن كعب الخزرجي، فأما حديث محيصة بن مسعود بن كعب الخزرجي، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 3422، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1277، والحميدي فى «مسنده» برقم: 902، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2166، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24179، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 28»