بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جو نام برے ہیں ان کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں جو نام برے ہیں ان کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1780 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلَقْحَةٍ تُحْلَبُ: " مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ؟" فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا اسْمُكَ؟" فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: مُرَّةُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْلِسْ". ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ؟" فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا اسْمُكَ؟" فَقَالَ: حَرْبٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْلِسْ". ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ؟" فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا اسْمُكَ؟" فَقَالَ: يَعِيشُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْلُبْ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے: اس اونٹنی کا دودھ کون دوہے گا؟ ایک شخص کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تیرا کیا نام ہے؟ وہ بولا: مرہ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جا۔ (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا نام اچھا نہ سمجھا، مرہ تلخ کو بھی کہتے ہیں)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کون دوہے گا اس اونٹنی کو؟ ایک شخص اور کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ وہ بولا: حرب۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جا۔ (حرب کے معنی لڑائی)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کون دوہے گا اس اونٹنی کو؟ ایک شخص اور کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ وہ بولا: یعیش۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جا دودھ دوہ۔۔‏‏‏‏ (یعیش نام آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پسند کیا کیونکہ وہ عیش سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فالِ نیک بہت لیا کر تے تھے)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1780]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه الطبراني فى «الكبير» برقم: 710، وعبدالله بن وهب فى «الجامع» : 652، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 24»
حدیث نمبر: 1781 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ لِرَجُلٍ:" مَا اسْمُكَ؟" فَقَالَ: جَمْرَةُ، فَقَالَ:" ابْنُ مَنْ؟" فَقَالَ: ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ:" مِمَّنْ؟" قَالَ: مِنْ الْحُرَقَةِ، قَالَ:" أَيْنَ مَسْكَنُكَ؟" قَالَ: بِحَرَّةِ النَّارِ، قَالَ:" بِأَيِّهَا؟" قَالَ: بِذَاتِ لَظًى، قَالَ عُمَرُ: " أَدْرِكْ أَهْلَكَ فَقَدِ احْتَرَقُوا"، قَالَ: فَكَانَ كَمَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ وہ بولا: جمرہ (انگارہ)، انہوں نے پوچھا: باپ کا نام؟ کہا: شہاب (شعلہ)، پوچھا: کہاں رہتا ہے؟ کہا: حرۃ النار میں، پوچھا: کون سی جگہ میں؟ کہا: ذات لظی میں، (ان کے معنی بھی شعلے اور دہکتی آگ کے ہیں)، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جا اپنے لوگوں کی خبر لے، وہ سب جل گئے۔ راوی نے کہا: جب وہ شخص گیا تو دیکھا یہی حال تھا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا (یعنی سب جل گئے تھے)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1781]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه عبدالله بن وهب فى «الجامع» : 78، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 25»