بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بالوں کے رنگنے کے بیان میں
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں بالوں کے رنگنے کے بیان میں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1731 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي، عَنْ حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، قَالَ وَكَانَ جَلِيسًا لَهُمْ وَكَانَ أَبْيَضَ اللِّحْيَةِ وَالرَّأْسِ، قَالَ: فَغَدَا عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ حَمَّرَهُمَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: هَذَا أَحْسَنُ، فَقَالَ: إِنَّ" أُمِّي عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيَّ الْبَارِحَةَ جَارِيَتَهَا نُخَيْلَةَ، فَأَقْسَمَتْ عَلَيَّ لَأَصْبُغَنَّ، وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ كَانَ يَصْبُغُ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن اسود ان کا ہم صحبت تھا، اوراس کے سر اور ڈاڑھی کے بال سب سفید تھے، ایک روز صبح کو آیا اپنے بالوں پر سرخ خضاب لگا کر، تو لوگوں نے کہا: اچھا ہے، وہ بولا: میری ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہلا بھیجا نخیلہ اپنی لونڈی کے ہاتھ قسم دے کر کہ تو اپنے بالوں پر خضاب لگا، اور بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی خضاب لگایا کرتے تھے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1731]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «شعب الايمان» برقم:6406، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 25518، فواد عبدالباقي نمبر: 51 - كتابُ الشَّعَرِ-ح: 8»