بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
چاندی کے برتن میں پینے کی ممانعت اور پانی میں پھونکنے کی ممانعت کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں چاندی کے برتن میں پینے کی ممانعت اور پانی میں پھونکنے کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1675 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چاندی کے (یا سونے کے) برتن میں پیئے (یا کھائے) وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹاغٹ ڈالتا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1675]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5634، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2065، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5341، 5342، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6843، 6844، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2175، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3413، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 98، 7682، 7683، 7684، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27103، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19926، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24613، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 11»
حدیث نمبر: 1676 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ ، أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ ، أَبُو سَعِيدٍ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ مَوْلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو سَعِيدٍ : نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَبِنْ الْقَدَحَ عَنْ فِيكَ؟ ثُمَّ تَنَفَّسْ"، قَالَ: فَإِنِّي أَرَى الْقَذَاةَ فِيهِ، قَالَ:" فَأَهْرِقْهَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ابومثنیٰ جہنی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا مروان بن حکم کے پاس کہ اتنے میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ آئے، مروان نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ منع کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی میں پھونکنے سے؟ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! ایک شخص بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں ایک سانس میں سیر نہیں ہوتا، تو آپ نے فرمایا: پیالے کو اپنے منہ سے جدا کر کے سانس لے لیا کر۔ پھر وہ شخص بولا: میں پانی میں کوڑا دیکھوں تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کو بہا دے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1676]
تخریج الحدیث
«مرفوع حسن، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 3722، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5315، 5327، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7301، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1887، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2167، 2179، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11221، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 12»